فیض رسانی
معنی
١ - فائدہ پہنچانا، فیاضی۔ "کبھی کبھی تو فیض رسانی کی ایسی اونچی جست لگاتے کہ الہ آباد اور نینی سنٹرل جیل کی دیواروں کے پار آ پڑا کرتے۔" ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢١١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'فیض' کے بعد فارسی مصدر 'رسائیدن' سے مشتق لاحقۂ کیفیت 'رسانی' لانے سے مرکب بنا جو اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تحریراً ١٨٠٣ء کو "گنج خوبی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - فائدہ پہنچانا، فیاضی۔ "کبھی کبھی تو فیض رسانی کی ایسی اونچی جست لگاتے کہ الہ آباد اور نینی سنٹرل جیل کی دیواروں کے پار آ پڑا کرتے۔" ( ١٩٨٦ء، انصاف، ٢١١ )